مہنگائی کا طوفان/اسٹاک مافیا اور منافع خور سرگرم
ملتان (اظہرتاج قریشی) شجاع آباد ماہِ صیام کے قریب آتے ہی شجاع آباد میں اسٹاک مافیا اور منافع خور عناصر ایک بار پھر پوری طرح متحرک ہو گئے ہیں، جس کے باعث چینی، آٹا، گھی، دالیں اور دیگر اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ غلہ منڈی میں اچانک تیزی کی لہر کے بعد شہر اور گردونواح میں کریانہ مرچنٹس نے من مانی قیمتیں مقرر کر کے مصنوعی مہنگائی کو ہوا دے دی ہے، جس سے عام شہری شدید ذہنی اور معاشی دباؤ کا شکار ہو چکے ہیں۔ کریانہ مرچنٹس کی جانب سے چینی، آٹا، گھی، چاول، مختلف دالیں، گرم مصالحہ جات، سرخ مرچ، دھنیا، کھجوریں اور حتیٰ کہ میوہ جات تک حد سے زیادہ مہنگے داموں فروخت کیے جا رہے ہیں دکاندار سادہ لوح عوام سے من پسند نرخ وصول کر رہے ہیں، جبکہ سرکاری نرخ نامے محض کاغذوں تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں اور ان پر عملدرآمد نہ ہونے کے برابر ہے مہنگائی کی اس بے قابو لہر نے متوسط اور غریب طبقے کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ صورتحال اس قدر سنگین ہوتی جا رہی ہے کہ بنیادی گھریلو اشیاء بھی عوام کی قوتِ خرید سے باہر ہو چکی ہیں اور کئی گھروں میں فاقہ کشی جیسی نوبت آن پہنچی ہے۔ شہری سراپا احتجاج ہیں اور مہنگائی کے خلاف شدید غم و غصے کا اظہار کر رہے ہیں عوامی و سماجی حلقوں، سول سوسائٹی اور شہریوں نے وزیر اعظم پاکستان، وزیر اعلیٰ پنجاب، کمشنر ملتان اور ڈپٹی کمشنر ملتان سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مصنوعی مہنگائی پیدا کرنے والے ذخیرہ اندوزوں اور گران فروشوں کے خلاف بلاامتیاز سخت کارروائی عمل میں لائی جائے شہریوں کا مزید کہنا ہے کہ روزانہ کی بنیاد پر غلہ منڈی ، بازاروں اور مارکیٹوں میں قیمتوں کی مؤثر چیکنگ کو یقینی بنایا جائے اور اسٹاک مافیا کی جانب سے ذخیرہ کی گئی چینی، گھی، دالیں، کھجوریں، گرم مصالحہ جات اور چاول فوری طور پر برآمد کر کے قانونی کارروائی کی جائے، تاکہ ماہِ صیام سے قبل عوام کو حقیقی ریلیف فراہم کیا جا سکے۔