کرائمز

پر خطر پتنگ بازی کے خلاف مہم میں 54 افراد گرفتار

اسلام آباد (کرائمز پوائنٹ ڈاٹ کام ) وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں جنوری کے دوران اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری (آئی سی ٹی) پولیس نے پر خطر پتنگ بازی کی مصنوعات کی فروخت کے خلاف کارروائی تیز کرتے ہوئے 54 افراد کو گرفتار کیا جبکہ 21 ہزار سے زائد پتنگیں اور کیمیکل ڈور قبضے میں لی ہے۔ اتوار کو پولیس کے ترجمان نے ’’اے پی پی ‘‘کو بتایا کہ اسلام آباد پولیس کی ٹیموں نے پتنگ بازوں اور پتگ بازی کا سامان فروخت کرنے والوں کے خلاف مختلف علاقوں میں موثر کارروائیاں کیں جس کے نتیجے میں پتنگ بازی کی مصنوعات کی تجارت میں ملوث 54 ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ ان کارروائیوں کے دوران پولیس نے گرفتار ملزمان کے قبضے سے 21 ہزار سے زائد پتنگیں اور 10 ہزار سے زائد کیمیکل ڈور سمیت چرخیاں اور دیگر متعلقہ مواد برآمد کیا۔ملزمان کے خلاف مختلف تھانوں میں مقدمات درج کر کے مزید تفتیش جاری ہے۔ایس ایس پی قاضی اسلام آباد قاضی علی رضا نے کہا کہ پتنگ بازی کوئی بے ضرر تفریح ​​نہیں بلکہ ایک مہلک سرگرمی ہے جس سے معصوم جانیں ضائع ہوتی ہیں اور خاص طور پر موٹر سائیکل سواروں، پیدل چلنے والوں اور بچوں کو شدید چوٹیں آتی ہیں۔انہوں نے خبردار کیا کہ کیمیائی تار انسانی زندگی کے لیے سنگین خطرہ ہے اور اس کے نتیجے میں مستقل معذوری یا موت واقع ہو سکتی ہے۔ انہوں نے والدین پر زور دیا کہ اپنے بچوں کو پتنگ بازی کے خطرات اور قانونی نتائج سے آگاہ کریں اور ذمہ دار شہری کی حیثیت سے اپنا کردار ادا کریں۔ایس ایس پی نے مزید کہا کہ عوام میں شعور بیدار کرنے کے لیے ضلع بھر کی مساجد میں پتنگ بازی اور فروخت کے خطرات سے متعلق آگاہی کے اعلانات بھی کرائے گئے ہیں۔انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ اسلام آباد پولیس نے پتنگ بازی اور کیمیکل ڈور کے استعمال کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی اپنائی ہے اور اس خطرناک عمل میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی جاری رہے گی۔ترجمان نے کہا کہ شہریوں کے جان و مال کا تحفظ اسلام آباد پولیس کی اولین ترجیح ہے اور کسی کو بھی عوام کے تحفظ کو خطرے میں ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ پتنگ بازی یا اس کے سامان کی فروخت کی اطلاع قریبی پولیس اسٹیشن یا ایمرجنسی ہیلپ لائن پکار۔15 کے ذریعے دیں تاکہ بروقت کارروائی کی جاسکے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button