
راوی کنارے ذوہیب گوندل کے مثالی اقدامات ۔۔۔۔۔!!
راوی میں آنے والے حالیہ سیلابی ریلا نے جہاں پورے خطے میں خوف و ہراس کی فضا قائم کر دی تھی وہیں انتظامیہ کی غیر معمولی مستعدی اور بروقت اقدامات نے نہ صرف بڑے پیمانے پر ممکنہ تباہی کو روکا بلکہ عوام کے دلوں میں اعتماد اور اطمینان کی فضا بھی قائم کر دی، خصوصاً اسسٹنٹ کمشنر رائے ونڈ کی قیادت میں انتظامیہ نے جس طرح دن رات ایک کرکے حفاظتی اقدامات کو یقینی بنایا وہ ایک تاریخ ساز کارنامہ ہے، سیلابی ریلا کے خدشات کے پیش نظر قبل از وقت اعلانات کیے گئے، دیہات اور نشیبی علاقوں کے عوام کو نہ صرف باخبر رکھا گیا بلکہ بروقت محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے لیے ریسکیو ٹیمیں تعینات کی گئیں، مقامی مساجد، سوشل میڈیا اور موبائل لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے مسلسل آگاہی مہم چلائی گئی تاکہ کوئی بھی شہری لاعلمی کے باعث نقصان کا شکار نہ ہو، جن علاقوں میں پانی داخل ہونے کا خطرہ بڑھ گیا وہاں فوری طور پر ریسکیو ٹیمیں روانہ کی گئیں جنہوں نے کشتیوں، ٹریکٹروں اور خصوصی گاڑیوں کے ذریعے پھنسے ہوئے افراد کو نکالا اور محفوظ مقامات پر منتقل کیا، ان آپریشنز میں نہ صرف مرد بلکہ خواتین، بچے اور بزرگ بھی شامل تھے جنہیں انتہائی عزت و احترام اور احتیاط کے ساتھ ریسکیو کیا گیا، انتظامیہ نے اپنی ذمہ داری کو محض لوگوں کو محفوظ مقام پر پہنچانے تک محدود نہیں رکھا بلکہ ان کے لیے ہر ممکن سہولیات فراہم کرنے کا اہتمام بھی کیا، ریسکیو کیے گئے افراد کے لیے عارضی کیمپ قائم کیے گئے جہاں پر ہر وقت کھانے پینے کی اشیاء دستیاب رہیں، مقامی مخیر حضرات کو بھی اعتماد میں لیا گیا جنہوں نے انتظامیہ کے ساتھ مل کر کھانے کی تقسیم، صاف پانی کی فراہمی اور بچوں کے لیے دودھ کا انتظام کیا، طبی سہولیات کے لیے ایمرجنسی میڈیکل کیمپس لگائے گئے جہاں ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل اسٹاف دن رات موجود رہا، زخمی اور بیمار افراد کو فوری طور پر طبی امداد فراہم کی گئی اور ضرورت پڑنے پر انہیں قریبی ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا، انتظامیہ نے وبائی امراض کے خدشے کے پیش نظر حفاظتی ویکسینیشن اور ادویات کی فراہمی کو بھی یقینی بنایا تاکہ کسی بھی ممکنہ وبا کو روکا جا سکے، اس کے ساتھ ساتھ ریلیف کیمپوں میں صفائی ستھرائی اور حفاظتی اقدامات کو اولین ترجیح دی گئی، بچوں کے لیے تعلیمی سرگرمیوں اور تفریح کا بھی انتظام کیا گیا تاکہ وہ ذہنی دباؤ سے باہر نکل سکیں، خواتین کے لیے علیحدہ انتظامات کیے گئے تاکہ انہیں کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے، اس سارے عمل کے دوران انتظامیہ نے مقامی لوگوں کو مسلسل اعتماد میں رکھا اور ہر لمحہ ان کے ساتھ کھڑی رہی، عوام نے اس غیر معمولی مستعدی اور بروقت اقدامات پر اسسٹنٹ کمشنر رائے ونڈ اور پوری انتظامیہ کو بھرپور خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ اگر یہ اقدامات نہ کیے جاتے تو نقصان بہت زیادہ ہو سکتا تھا، اس موقع پر متاثرہ افراد نے اعتراف کیا کہ انتظامیہ نے نہ صرف ان کی جانیں بچائیں بلکہ انہیں اس کڑے وقت میں سہارا بھی فراہم کیا، روزانہ کی بنیاد پر کیمپوں کا دورہ کیا جاتا رہا اور مسائل کو فوری طور پر حل کیا گیا، عوامی نمائندے اور سول سوسائٹی کے افراد بھی انتظامیہ کے شانہ بشانہ نظر آئے، ہر سطح پر ایک مربوط نظام کے تحت کام ہوا اور کسی کو بھی بے یارو مددگار نہیں چھوڑا گیا، راوی کے اس سیلابی ریلا نے جہاں قدرتی آفات کی سنگینی کو اجاگر کیا وہیں یہ بھی واضح کر دیا کہ اگر انتظامیہ نیک نیتی اور جذبۂ خدمت کے ساتھ کام کرے تو بڑے سے بڑا چیلنج بھی سر کیا جا سکتا ہے، اسسٹنٹ کمشنر رائے ونڈ کی قیادت میں کیے گئے یہ بروقت اور جرات مندانہ اقدامات آنے والے وقت میں بھی ایک مثال کے طور پر یاد رکھے جائیں گے اور عوام کو یہ یقین دلائیں گے کہ حکومت ان کے ساتھ ہے، ان کی حفاظت اور فلاح و بہبود کے لیے ہر وقت تیار ہے، یہی وجہ ہے کہ عوام نے نہ صرف خراج تحسین پیش کیا بلکہ دعا بھی کی کہ اللہ تعالیٰ اس خدمت کے جذبے کو قائم و دائم رکھے تاکہ مستقبل میں بھی کسی بھی قدرتی آفت یا آزمائش کے وقت اسی طرح قوم کو سہارا مل سکے۔


