پولیٹیکل اینڈ کرنٹ افئیرز

اے میرے ارشد شریف میں شرمندہ ہوں ۔۔۔۔!!

صحافی ارشد شریف کا نام جس تیزی سے صحافتی افق سے دھندلا ہوتا جا رہا ہے وہ صرف ایک فرد کی یادداشت کا زوال نہیں بلکہ اجتماعی ضمیر کی شکست، پیشہ ورانہ بے حسی اور طاقت کے سامنے سچ کے گھٹنے ٹیکنے کی داستان ہے، ایک ایسا نام جو کبھی ٹی وی اسکرین پر سوال بن کر ابھرتا تھا، جو ریاستی بیانیے میں دراڑ ڈالنے کی جرأت رکھتا تھا، جو خبر کو خبر اور طاقت کو طاقت کہنے پر یقین رکھتا تھا، آج اسی نام پر خاموشی کا گردوغبار ہے، ایسی خاموشی جو چیختی ہے مگر سنائی نہیں دیتی، ارشد شریف قتل کیس محض ایک قتل نہیں بلکہ صحافت کے قتل کی علامت ہے، یہ کیس ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ سچ بولنے کی قیمت صرف نوکری، شہرت یا جلاوطنی نہیں بلکہ جان بھی ہو سکتی ہے، اور اس قیمت کی ادائیگی کے بعد جو سب سے زیادہ تکلیف دہ چیز سامنے آتی ہے وہ وہ خاموشی ہے جو صحافی برادری، میڈیا مالکان، اینکرز، ادارتی سربراہان اور علاقائی رپورٹرز کی صفوں میں پھیل چکی ہے، یہ خاموشی کسی حکمت عملی کا حصہ نہیں بلکہ خوف، مفاد اور مصلحت کا نتیجہ ہے، وہ میڈیا جو دن رات حب الوطنی کے سرٹیفکیٹ بانٹتا نہیں تھکتا، جو معمولی واقعات پر بریکنگ نیوز کے طوفان کھڑے کر دیتا ہے، جو غیر مصدقہ خبروں پر گھنٹوں چیختا ہے، وہی میڈیا ارشد شریف کے قتل جیسے سنگین، بین الاقوامی اور ضمیر کو جھنجھوڑ دینے والے معاملے پر یا تو خاموش ہے یا رسمی بیانات اور چند آنسوؤں کے بعد آگے بڑھ چکا ہے، جیسے کچھ ہوا ہی نہیں، جیسے ایک صحافی کا قتل معمول کی خبر ہو، جیسے سوال پوچھنے والا مر جائے تو سوال بھی مر جاتے ہوں، یہ لمحہ فکریہ صرف اس لیے نہیں کہ ایک صحافی قتل ہوا بلکہ اس لیے کہ اس کے بعد اجتماعی طور پر ہم نے کیا کیا اور کیا نہیں کیا، کیا ہم نے مسلسل سوال اٹھائے؟ کیا ہم نے تحقیقات کا مطالبہ کیا؟ کیا ہم نے قاتلوں کے تعاقب میں اپنی آواز کو ہتھیار بنایا؟ یا ہم نے یہ سوچ کر خود کو تسلی دے لی کہ یہ کسی اور کا مسئلہ ہے، یہ کسی اور کی لڑائی ہے، میں محفوظ ہوں، میری اسکرین چل رہی ہے، میری تنخواہ آ رہی ہے، یہی سوچ صحافت کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے، یہی سوچ ارشد شریف جیسے ناموں کو تاریخ کے حاشیے میں دھکیل دیتی ہے، علاقائی صحافی جو خود کو زمینی حقائق کا امین کہتے ہیں، جو ہر چھوٹے مسئلے پر پریس کلبوں میں احتجاج کرتے ہیں، وہ بھی اس قتل پر چند دن کی ہلکی سی سرگوشی کے بعد خاموش ہو گئے، شاید اس لیے کہ طاقت کا سایہ لمبا تھا، شاید اس لیے کہ خطرہ حقیقی تھا، مگر کیا صحافت کا کام خطرے سے بھاگنا ہے یا خطرے کو بے نقاب کرنا؟ میڈیا مالکان جن کے چینلز کروڑوں کماتے ہیں، جن کی عمارتیں، اشتہارات اور تعلقات طاقت کے ایوانوں تک پھیلے ہیں، انہوں نے اس کیس کو مستقل ایجنڈا بنانے کے بجائے اسے وقتی جذباتی خبر بنا کر دفن کر دیا، کیونکہ سچ بولنے سے کاروبار متاثر ہوتا ہے، کیونکہ سوال اٹھانے سے لائسنس خطرے میں پڑتے ہیں، کیونکہ اصول اکثر مفاد کے سامنے ہار جاتے ہیں، قلمکار اس منظرنامے میں سب سے زیادہ بے بس نظر آتا ہے، کیونکہ اس کے پاس نہ چینل ہے، نہ محافظ، نہ اشتہارات کا دباؤ، اس کے پاس صرف لفظ ہے، اور جب لفظ کو بھی خوف کے پنجرے میں قید کر دیا جائے تو وہ تڑپ تڑپ کر قاری کے دل میں چبھتا ہے، یہی بے بسی اس کالم میں بولتی ہے، یہی بے بسی یہ سوال کرتی ہے کہ کیا ہم نے ارشد شریف کو واقعی سنا تھا یا صرف دیکھا تھا؟ کیا ہم نے اس کی باتوں کو سمجھا تھا یا محض انٹرٹینمنٹ کے طور پر استعمال کیا تھا؟ قتل کے بعد جو تحقیقات سامنے آئیں، جو تضادات، تاخیر، ابہام اور غیر تسلی بخش بیانات آئے، وہ سب مل کر اس تاثر کو مضبوط کرتے ہیں کہ سچ کو دفن کرنے کی منظم کوشش ہو رہی ہے، اور جب سچ دفن ہوتا ہے تو تاریخ خاموش نہیں رہتی، وہ اپنے وقت پر سوال کرتی ہے، مگر اس وقت شاید پوچھنے والا کوئی نہ بچے، یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ صحافی برادری اندر سے تقسیم ہے، نظریاتی، سیاسی اور ذاتی مفادات نے اسے ایک دوسرے کے مقابل کھڑا کر دیا ہے، اسی تقسیم نے ارشد شریف کے قتل پر متحد ردعمل کو جنم نہیں لینے دیا، کوئی اسے اپنا نہیں سمجھتا کیونکہ وہ کسی ایک کیمپ کا نہیں تھا، وہ سوال کا تھا، اور سوال ہمیشہ سب کو ناگوار گزرتا ہے، آج اگر ارشد شریف کا نام دھندلا رہا ہے تو یہ اس لیے نہیں کہ وہ کمزور تھا بلکہ اس لیے کہ ہم کمزور پڑ گئے ہیں، ہم نے یاد رکھنے کی ذمہ داری چھوڑ دی ہے، ہم نے سچ کو زندہ رکھنے کا بوجھ اتار پھینکا ہے، یہ کالم پڑھنے والے کو اس لیے ہلا کر رکھتا ہے کہ اس میں کوئی نعرہ نہیں، کوئی آسان جواب نہیں، صرف آئینہ ہے، ایک ایسا آئینہ جس میں صحافت کا چہرہ خوفزدہ، تھکا ہوا اور سمجھوتہ زدہ نظر آتا ہے، سوال یہ نہیں کہ ارشد شریف کو کس نے مارا، سوال یہ ہے کہ ہم نے اسے مرنے کے بعد کتنی بار مارا، اپنی خاموشی سے، اپنی بے حسی سے، اپنی ترجیحات سے، اگر آج ہم نے اس کیس کو زندہ نہ رکھا تو کل کوئی اور نام اسی طرح مٹ جائے گا، اور پھر ہم کالم لکھیں گے، آنسو بہائیں گے اور اگلی خبر پر آگے بڑھ جائیں گے، یہی صحافت کا زوال ہے، یہی لمحہ فکریہ ہے، یہی وہ سچ ہے جو چبھتا ہے، کاٹتا ہے اور چین سے سونے نہیں دیتا، کیونکہ ارشد شریف صرف ایک نام نہیں تھا، وہ ایک سوال تھا، اور سوال اگر مر جائے تو معاشرہ زندہ لاش بن جاتا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button