
دنیا نئے عالمی توازن کی تشکیل کے دہانے پر ۔۔۔۔۔!!
دنیا ایک بار پھر تاریخ کے اس موڑ پر کھڑی دکھائی دیتی ہے جہاں عالمی طاقتوں کے فیصلے صرف سفارتی بیانات تک محدود نہیں رہتے بلکہ کروڑوں انسانوں کی معیشت، امن اور مستقبل کا رخ متعین کرتے ہیں، موجودہ عالمی بحران دراصل کسی ایک خطے کی کشیدگی نہیں بلکہ اس عالمی نظام کے زوال کی علامت ہے جسے سرد جنگ کے خاتمے کے بعد ناقابلِ چیلنج تصور کیا گیا تھا، امریکہ نے گزشتہ تین دہائیوں میں خود کو عالمی سیاست کا محور بنا کر ایک ایسا ون ورلڈ آرڈر تشکیل دینے کی کوشش کی جس میں سیاسی، اقتصادی اور عسکری فیصلوں کا مرکز واشنگٹن ہو مگر وقت نے ثابت کر دیا کہ طاقت کا یک قطبی تصور فطرت کے اصولوں کے خلاف ہوتا ہے، ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں اپنائی گئی جارحانہ خارجہ پالیسی نے اس نظام کی کمزور بنیادوں کو بے نقاب کر دیا، دھمکی آمیز سفارت کاری، اقتصادی پابندیوں کے بے دریغ استعمال اور عالمی اداروں کو دباؤ کے آلے میں تبدیل کرنے کی حکمت عملی نے وقتی خوف تو پیدا کیا مگر مستقل استحکام فراہم نہ کر سکی، نتیجتاً دنیا کے مختلف خطوں خصوصاً ایشیا میں ردعمل پیدا ہونا شروع ہوا، چین معاشی قوت کے ذریعے، روس عسکری توازن کے ذریعے اور مشرق وسطیٰ علاقائی خودمختاری کے ذریعے ایک نئے عالمی بیانیے کی تشکیل میں مصروف نظر آئے، ایران کے خلاف برسوں سے جاری دباؤ کی پالیسی اس عالمی تبدیلی کی سب سے بڑی مثال بن گئی جہاں امریکی اور اسرائیلی تھنک ٹینکس کی یہ پیش گوئی کہ داخلی بغاوت نظام کو کمزور کر دے گی عملی طور پر غلط ثابت ہوئی، نہ صرف ریاستی ڈھانچہ برقرار رہا بلکہ خطے میں اس کا اثر و رسوخ مزید مضبوط ہوا، یہی وہ مرحلہ تھا جہاں رجیم چینج کا تصور سیاسی نعرے سے آگے نہ بڑھ سکا اور عالمی طاقتوں کو اپنی حکمت عملی پر نظرثانی کرنا پڑی، بحرائے حرمز کی کشیدگی نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا کیونکہ یہ سمندری راستہ عالمی توانائی سپلائی کی شہ رگ سمجھا جاتا ہے، اس کی بندش یا بندش کا خدشہ بھی عالمی معیشت کو ہلا دینے کے لیے کافی ہے، حالیہ کشیدگی کے دوران عالمی اسٹاک مارکیٹوں میں نمایاں گراوٹ، تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور سرمایہ کاروں کی بے یقینی نے واضح کر دیا کہ جدید عالمی معیشت کس قدر حساس توازن پر قائم ہے، یورپی ممالک توانائی بحران کے خدشات میں مبتلا ہیں جبکہ ایشیائی معیشتیں متبادل سپلائی چینز تلاش کرنے پر مجبور ہو چکی ہیں، امریکہ کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ اس کی روایتی طاقت یعنی اقتصادی پابندیاں اب پہلے جیسا اثر نہیں رکھتیں کیونکہ دنیا متبادل مالیاتی نظاموں کی طرف بڑھ رہی ہے، مقامی کرنسیوں میں تجارت اور علاقائی اتحادوں کے بڑھتے رجحان نے ڈالر کی عالمی برتری پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں، عالمی سیاست میں یہ تبدیلی صرف طاقت کے توازن کی نہیں بلکہ نفسیاتی برتری کے خاتمے کی علامت بھی ہے، ایران کی جانب سے سخت ردعمل نے اس مفروضے کو چیلنج کیا کہ عسکری دباؤ ہمیشہ فوری نتائج دیتا ہے، یہی وجہ ہے کہ امریکی اور اسرائیلی دفاعی حلقوں میں بے چینی بڑھتی دکھائی دیتی ہے کیونکہ غیر متوقع مزاحمت کسی بھی اسٹریٹجک منصوبے کو ناکام بنا سکتی ہے، عالمی مارکیٹوں کی گراوٹ دراصل سرمایہ دارانہ نظام کے اس خوف کی ترجمان ہے جو غیر یقینی سیاسی ماحول میں جنم لیتا ہے، سرمایہ استحکام چاہتا ہے اور جب عالمی سطح پر جنگی بیانیہ غالب آ جائے تو سرمایہ کاری سکڑ جاتی ہے، یہی صورتحال آج عالمی معیشت کو درپیش ہے، امریکہ اس وقت ایک پیچیدہ سفارتی جال میں الجھا ہوا محسوس ہوتا ہے جہاں عسکری دباؤ بڑھانے سے جنگ کا خطرہ، مذاکرات سے کمزوری کا تاثر اور خاموشی سے عالمی اثر و رسوخ میں کمی کا اندیشہ پیدا ہوتا ہے، یہ وہ مرحلہ ہے جسے عالمی سیاست میں اسٹریٹجک اوور ریچ کہا جاتا ہے یعنی طاقت اپنی ہی توسیعی پالیسیوں کے بوجھ تلے دبنے لگتی ہے، ایشیا میں بڑھتے خطرات دراصل عالمی طاقت کی منتقلی کی نشاندہی کرتے ہیں کیونکہ تاریخ بتاتی ہے کہ جب بھی طاقت کا مرکز تبدیل ہوتا ہے تو کشیدگی ناگزیر ہو جاتی ہے، موجودہ بحران اسی تاریخی عمل کا تسلسل معلوم ہوتا ہے مگر فرق یہ ہے کہ اب جنگیں صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں بلکہ معیشت، توانائی، ٹیکنالوجی اور اطلاعاتی بیانیے کے محاذ پر لڑی جا رہی ہیں، ون ورلڈ آرڈر کی ناکامی اس حقیقت کو آشکار کرتی ہے کہ دنیا کو ایک سیاسی یا نظریاتی سانچے میں قید نہیں کیا جا سکتا، ہر خطہ اپنی خودمختاری، شناخت اور مفادات کے تحفظ کے لیے نئی صف بندی کر رہا ہے، یہی وجہ ہے کہ عالمی سیاست تیزی سے کثیر قطبی نظام کی طرف بڑھ رہی ہے جہاں طاقت تقسیم ہوگی اور فیصلے یکطرفہ نہیں رہیں گے، موجودہ بحران دراصل ایک عبوری دور کی علامت ہے جس میں پرانے عالمی تصورات دم توڑ رہے ہیں اور نئے عالمی اصول جنم لے رہے ہیں، اگر عالمی طاقتیں اس حقیقت کو تسلیم کرنے میں تاخیر کریں گی تو تصادم کے امکانات مزید بڑھیں گے، مگر اگر تعاون اور توازن کی راہ اختیار کی جائے تو یہی بحران ایک نئے مستحکم عالمی نظام کی بنیاد بھی بن سکتا ہے، آج کی دنیا کو طاقت کے مظاہرے سے زیادہ دانشمندانہ قیادت کی ضرورت ہے کیونکہ تاریخ کا سبق واضح ہے کہ جو طاقت وقت کے بدلتے تقاضوں کو نہیں سمجھتی وہ خود تاریخ کا حصہ بن جاتی ہے، اور موجودہ عالمی منظرنامہ یہی اشارہ دے رہا ہے کہ ون ورلڈ آرڈر کا خواب اب سیاسی حقیقت نہیں بلکہ ماضی کی ایک ناکام حکمت عملی بن چکا ہے جبکہ دنیا ایک نئے عالمی توازن کی تشکیل کے دور میں داخل ہو رہی ہے جہاں طاقت کا معیار غلبہ نہیں بلکہ شراکت اور توازن ہوگا۔


