علاقائی خبریں

تعلیم یافتہ نسل اور بے روزگاری — حکومت وقت سے ایک درد بھری اپیل

تعلیم یافتہ نسل اور بے روزگاری — حکومت وقت سے ایک درد بھری اپیل
تحریر : محمد شریف ساجد گہلن ایم اے۔ایم ایڈ
آج کا دور علم اور شعور کا دور کہلاتا ہے۔ تعلیم کو ترقی کی کنجی قرار دیا جاتا ہے اور قوموں کی کامیابی کا راز تعلیم یافتہ افراد میں تلاش کیا جاتا ہے۔ مگر بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں ایک ایسا المیہ جنم لے چکا ہے جہاں تعلیم یافتہ ہونا بھی ایک مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ ہر گھر میں ایم اے، ایم فل، ماسٹرز، بی ایس، ایم بی بی ایس، انجینئرنگ اور دیگر اعلیٰ ڈگریوں کے حامل نوجوان موجود ہیں، مگر وہ روزگار سے محروم ہو کر بے بسی، مایوسی اور پریشانی کا شکار ہیں۔ یہ نوجوان جنہوں نے اپنی زندگی کے قیمتی سال تعلیم حاصل کرنے میں صرف کیے، آج ویلے، فارغ اور بے روزگار پھر رہے ہیں۔
تعلیم یافتہ نوجوانوں کی یہ بڑھتی ہوئی تعداد ایک طرف امید کی علامت ہونی چاہیے تھی، مگر روزگار کے مواقع نہ ہونے کی وجہ سے یہ امید مایوسی میں تبدیل ہو رہی ہے۔ والدین اپنی جمع پونجی خرچ کر کے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلواتے ہیں، انہیں خواب دکھاتے ہیں کہ وہ مستقبل میں خاندان کا سہارا بنیں گے، مگر جب یہی نوجوان بے روزگار رہ جاتے ہیں تو نہ صرف ان کی اپنی امیدیں ٹوٹتی ہیں بلکہ پورا خاندان ذہنی دباؤ اور پریشانی کا شکار ہو جاتا ہے۔
آج ہزاروں ایم بی بی ایس ڈاکٹرز موجود ہیں جو ہسپتالوں میں نوکریوں کے منتظر ہیں، ہزاروں انجینئرنگ کی ڈگری رکھنے والے نوجوان عملی میدان میں آنے کے لیے بے تاب ہیں، مگر مواقع محدود ہیں۔ یونیورسٹیاں ہر سال ہزاروں گریجویٹس تیار کر رہی ہیں، مگر مارکیٹ میں روزگار کے مواقع اس رفتار سے پیدا نہیں ہو رہے۔ نتیجتاً تعلیم یافتہ نوجوانوں میں بے چینی اور مایوسی بڑھ رہی ہے۔
یہ مسئلہ اب صرف بے روزگاری تک محدود نہیں رہا، بلکہ اس کے سماجی اثرات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ بے روزگاری نوجوانوں کو ذہنی دباؤ، پریشانی اور مایوسی میں مبتلا کر رہی ہے۔ آوارہ گردی، نشے کی لت، جرائم کی بڑھتی ہوئی شرح، اور بے راہ روی جیسے مسائل تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ سب سے افسوسناک بات یہ ہے کہ بے روزگاری کے باعث خودکشی کا رجحان بھی جنم لے رہا ہے، جو نہایت تشویشناک صورتحال ہے۔ جب ایک تعلیم یافتہ نوجوان مایوسی کی آخری حد کو پہنچ جاتا ہے، جب اسے اپنی محنت کا کوئی صلہ نہیں ملتا، جب اس کے خواب بکھر جاتے ہیں، تو وہ انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف ایک خاندان بلکہ پوری قوم کے لیے المیہ ہے۔
یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ نوجوان کسی بھی قوم کا مستقبل ہوتے ہیں۔ اگر یہی نوجوان مایوسی، بے روزگاری اور بے بسی کا شکار ہو جائیں تو قوم کی ترقی رک جاتی ہے۔ حکومت وقت پر لازم ہے کہ وہ اس مسئلے کو سنجیدگی سے لے اور فوری اقدامات کرے۔ صرف وعدوں اور دعووں سے مسئلہ حل نہیں ہوگا، بلکہ عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔
حکومت وقت سے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ سرکاری اداروں میں خالی آسامیوں کو فوری طور پر پر کیا جائے۔ نئے محکمے قائم کیے جائیں، صنعتی ترقی کو فروغ دیا جائے، اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروبار کو فروغ دینے کے لیے بلا سود قرضوں کا اجرا کیا جائے۔ اس سے نہ صرف روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے بلکہ نوجوان خود بھی کاروبار شروع کر سکیں گے۔
اسی طرح بے روزگار تعلیم یافتہ نوجوانوں کے لیے بے روزگاری وظیفہ یا الاؤنس کا اجرا بھی ضروری ہے، تاکہ وہ مالی مشکلات سے کچھ حد تک نجات حاصل کر سکیں۔ یہ اقدام نوجوانوں کو مایوسی سے نکالنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
مزید برآں، بیرون ملک روزگار کے مواقع پیدا کرنا بھی انتہائی ضروری ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ بیرون ملک جانے کے آسان اور شفاف طریقہ کار وضع کرے۔ مختلف ممالک کے ساتھ معاہدے کیے جائیں، تربیتی پروگرامز متعارف کروائے جائیں، اور نوجوانوں کو بیرون ملک ملازمتوں کے بارے میں مکمل معلومات فراہم کی جائیں۔ اس طرح نہ صرف بے روزگاری میں کمی آئے گی بلکہ ملک میں زرمبادلہ بھی آئے گا، جو ملکی معیشت کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا۔
تعلیم کے ساتھ ساتھ فنی تربیت کو بھی فروغ دینا ضروری ہے۔ نوجوانوں کو صرف ڈگریاں دینے کے بجائے عملی مہارتیں سکھائی جائیں، تاکہ وہ خود کفیل بن سکیں۔ چھوٹے کاروبار، آن لائن کام، فری لانسنگ، اور ہنر مندی کے شعبوں میں تربیت فراہم کی جائے تاکہ نوجوان اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا سکیں۔
حکومت وقت سے یہ بھی اپیل ہے کہ پرائیویٹائزیشن کے عمل کو محدود کیا جائے، کیونکہ اس سے روزگار کے مواقع کم ہو رہے ہیں۔ سرکاری ادارے عوام کے لیے روزگار کا بڑا ذریعہ ہوتے ہیں، اس لیے انہیں مضبوط بنایا جائے اور نئی ملازمتوں کا اعلان کیا جائے۔
بنیادی سہولیات کی فراہمی کے ساتھ بے روزگاری کا خاتمہ بھی حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ نوجوانوں کو امید دینا، ان کے خوابوں کو حقیقت میں بدلنا، اور انہیں باعزت روزگار فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
آج تعلیم یافتہ نوجوان حکومت وقت کی طرف امید بھری نظروں سے دیکھ رہے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ ان کی آواز سنی جائے، ان کے مسائل حل کیے جائیں، اور انہیں باعزت روزگار فراہم کیا جائے۔ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ مسئلہ مزید سنگین ہو سکتا ہے، اور اس کے اثرات پورے معاشرے پر پڑیں گے۔
آخر میں حکومت وقت سے پرزور اپیل ہے کہ تعلیم یافتہ نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں، بیرون ملک ملازمتوں کے دروازے کھولے جائیں، بلا سود قرضے دیے جائیں، بے روزگاری الاؤنس جاری کیا جائے، اور صنعتی ترقی کو فروغ دیا جائے۔ یہ اقدامات نہ صرف نوجوانوں کو مایوسی سے نکالیں گے بلکہ ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کریں گے۔
تعلیم یافتہ نوجوان قوم کا سرمایہ ہیں، انہیں مایوسی کے اندھیروں میں نہ دھکیلا جائے۔ ان کے خوابوں کو ٹوٹنے سے بچایا جائے، ان کی صلاحیتوں کو ضائع ہونے سے روکا جائے، اور انہیں امید کی روشنی دی جائے۔ کیونکہ جب نوجوان با امید ہوں گے تو قوم ترقی کرے گی، جب نوجوان مضبوط ہوں گے تو ملک مضبوط ہوگا، اور جب تعلیم یافتہ نسل کو روزگار ملے گا تو پاکستان خوشحال اور ترقی یافتہ ملک بنے گا۔
یہ وقت ہے کہ تعلیم یافتہ نسل کی خاموش فریاد کو سنا جائے، ان کی آنکھوں کے خوابوں کو حقیقت بنایا جائے، اور انہیں زندگی کی نئی امید دی جائے۔ یہی وقت کا تقاضا ہے، یہی قوم کی ضرورت ہے، اور یہی حکومت وقت کی اصل ذمہ داری ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button