
اظہار تعزیت انتقال پر ملال ” والدہ محترمہ عابد علی ” بھائی ۔۔۔!!
ہر دلعزیز، ملنسار، خوش اخلاق اور خدمتِ خلق میں پیش پیش رہنے والی شخصیت عابد علی کی والدہ محترمہ کے انتقال کی خبر نے دل و دماغ کو گہرے رنج و الم میں مبتلا کر دیا ہے، یہ ایسا صدمہ ہے جس کے اثرات الفاظ میں سمیٹنا آسان نہیں، ماں وہ ہستی ہے جس کی دعا سایۂ رحمت بن کر اولاد کے سر پر تاحیات قائم رہتی ہے، جس کی گود پہلی درسگاہ، جس کی آغوش سب سے محفوظ پناہ گاہ اور جس کے وجود سے گھر میں برکت، سکون اور زندگی کی رونق قائم رہتی ہے، عابد علی جیسے بااخلاق، مہذب اور باوقار انسان کی شخصیت میں جو شائستگی، تحمل، حوصلہ، دوسروں کے لیے درد اور احترامِ انسانیت نظر آتا ہے وہ یقیناً ایک نیک سیرت، صابرہ اور باکردار ماں کی تربیت کا عکس ہے، والدہ محترمہ کا انتقال محض ایک فرد یا ایک خاندان کا دکھ نہیں بلکہ پورے حلقۂ احباب، دوستوں، عزیزوں اور ان تمام لوگوں کے لیے باعثِ رنج ہے جو عابد علی کو جانتے ہیں، کیونکہ ماں کی وفات وہ خلا چھوڑ جاتی ہے جو کبھی پُر نہیں ہوتا، وقت گزرنے کے ساتھ زخموں پر مرہم تو آ جاتا ہے مگر دل کے کسی نہ کسی گوشے میں وہ کمی ہمیشہ محسوس ہوتی رہتی ہے، ماں کی شفقت بھری نگاہ، دعا میں اٹھے ہوئے ہاتھ، پریشانی میں تسلی دینے والے الفاظ اور خاموشی میں بھی حوصلہ دینے والا وجود اچانک آنکھوں سے اوجھل ہو جائے تو انسان خود کو بے سہارا محسوس کرتا ہے، ایسے میں صبر ہی وہ واحد سہارا ہوتا ہے جس کا ذکر ربِ کریم نے خود فرمایا ہے اور جس پر اجرِ عظیم کی بشارت دی گئی ہے، والدہ محترمہ کی وفات پر عابد علی اور ان کے تمام اہلِ خانہ کا غم بجا ہے، یہ وہ لمحہ ہے جب لفظ تعزیت بھی کم محسوس ہوتے ہیں مگر پھر بھی دل کی گہرائیوں سے یہی دعا نکلتی ہے کہ اللہ تعالیٰ مرحومہ کو اپنی جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، ان کی مغفرت فرمائے، ان کی قبر کو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بنائے، انہیں سوالِ قبر میں آسانی عطا کرے اور ان کے درجات بلند فرمائے، والدہ محترمہ کا دنیا سے رخصت ہونا اس بات کی یاد دہانی بھی ہے کہ زندگی عارضی ہے، ہر ذی روح نے اس سفر کو طے کرنا ہے اور اصل کامیابی نیک اعمال، حسنِ اخلاق اور لوگوں کے دلوں میں اچھا اثر چھوڑ جانے میں ہے، ایک ماں کا سب سے بڑا صدقۂ جاریہ اس کی وہ اولاد ہوتی ہے جو اس کے بعد بھی اچھے کاموں، خدمت اور بھلائی کے ذریعے اس کے لیے دعاؤں کا سامان بنتی ہے، عابد علی کی شخصیت، ان کا نرم لہجہ، ان کا خلوص اور لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا کرنے کا جذبہ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ والدہ محترمہ نے اپنی زندگی میں بہترین تربیت کی، آج اگر وہ ہم میں موجود نہیں رہیں تو ان کی تربیت، ان کی اقدار اور ان کی دعاؤں کا اثر زندہ ہے، اس کڑے وقت میں ہم سب عابد علی کے غم میں برابر کے شریک ہیں، دل کی گہرائیوں سے ان کے دکھ کو محسوس کرتے ہیں اور دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں اور ان کے اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عطا فرمائے، ان کے دلوں کو سکون دے، انہیں یہ حوصلہ دے کہ وہ اس عظیم صدمے کو برداشت کر سکیں، یقیناً ماں کا بچھڑ جانا سب سے بڑا دکھ ہوتا ہے مگر مومن کے لیے یہی تسلی کافی ہے کہ یہ جدائی عارضی ہے اور ایک دن دوبارہ ملاقات ہوگی، اللہ تعالیٰ مرحومہ کے لیے جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام، اور لواحقین کے لیے آسانی، سکون اور صبر عطا فرمائے، آمین۔


