
“غیر جانبدار فعال سفارت کاری”
امریکہ دوسری جنگِ عظیم کے بعد سے جس عالمی نظام کا خود ساختہ نگہبان بنا ہوا ہے وہ دراصل عسکری، مالیاتی اور اطلاعاتی بالادستی کا ایسا جال ہے جس میں نیٹو، آئی ایم ایف، ورلڈ بینک، ڈالر کی اجارہ داری، پابندیاں، رجیم چینج آپریشنز، پراکسی وارز اور میڈیا نیریٹو ایک ہی زنجیر کی کڑیاں ہیں، مشرقِ وسطیٰ میں عراق کی تباہی، افغانستان کی بربادی، لیبیا کا انہدام، شام کی خانہ جنگی اور اب ایران پر مسلسل دباؤ اس امریکی غنڈہ گردی کی واضح مثالیں ہیں جہاں عالمی قوانین، اقوامِ متحدہ کی قراردادیں اور انسانی حقوق سب مفادات کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں، ایران اس منظرنامے میں ایک منفرد ریاست کے طور پر ابھرتا ہے جس نے 1979 کے انقلاب کے بعد سے یہ طے کر لیا کہ وہ امریکی زیرِ سایہ علاقائی نظام کا حصہ نہیں بنے گا، یہی وجہ ہے کہ ایران کی جنگی حکمت عملی کلاسیکل ریاستی جنگ کے بجائے “اسٹریٹیجک صبر، تہہ دار دفاع اور غیر متناسب ردعمل” پر مبنی ہے، ایران جانتا ہے کہ براہِ راست امریکہ یا اسرائیل سے مکمل جنگ اس کے لیے عسکری سے زیادہ معاشی اور سماجی تباہی لا سکتی ہے، اسی لیے اس نے حزب اللہ، حوثی تحریک، عراقی ملیشیاز اور شامی اتحادیوں کے ذریعے ایک ایسا ریجنل ڈیٹرنس نیٹ ورک قائم کیا ہے جو دشمن کو ہر محاذ پر الجھا کر رکھتا ہے، ایران کا میزائل پروگرام، ڈرون ٹیکنالوجی اور سائبر وارفیئر اس کی حکمت عملی کے وہ ستون ہیں جو کم لاگت میں زیادہ خوف پیدا کرتے ہیں، حالیہ برسوں میں خلیج فارس میں آئل ٹینکرز کی سیاست، ہرمز آبنائے کی اسٹریٹیجک اہمیت، اسرائیل پر محدود مگر علامتی حملے اور امریکی اڈوں کے گرد بڑھتا ہوا دباؤ اسی حکمت عملی کا تسلسل ہے، دوسری طرف پاکستان ایک ایسے جغرافیائی اور نظریاتی چوراہے پر کھڑا ہے جہاں ایک غلط فیصلہ اسے یا تو امریکی بلاک کا مہرہ بنا سکتا ہے یا خطے میں توازن کی علامت، پاکستان کی ریاستی تاریخ گواہ ہے کہ وہ طویل عرصے تک امریکی سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے فرنٹ لائن اتحادی کے طور پر استعمال ہوتا رہا، سرد جنگ سے لے کر وار آن ٹیرر تک پاکستان نے اپنی معیشت، سماج اور خودمختاری کی بھاری قیمت ادا کی، آج کا پاکستان داخلی سیاسی عدم استحکام، معاشی دباؤ، آئی ایم ایف کی شرائط، علاقائی سیکیورٹی خدشات اور سفارتی توازن کے پیچیدہ امتحان سے گزر رہا ہے، ایران کے ساتھ اس کے تعلقات مذہبی جذبات سے زیادہ اسٹریٹیجک حقیقتوں سے جڑے ہیں، پاکستان نہ تو ایران کے خلاف کسی امریکی یا اسرائیلی مہم جوئی کا حصہ بن سکتا ہے اور نہ ہی کھل کر ایران کے عسکری بلاک میں شامل ہو سکتا ہے، یہی اس کا اصل امتحان ہے، پاکستان کے لیے سب سے بڑی حکمت عملی “غیر جانبدار فعال سفارت کاری” ہے جس میں وہ چین کے ساتھ اپنے اسٹریٹیجک تعلقات، روس کے ساتھ ابھرتے روابط، خلیجی ریاستوں کے ساتھ معاشی مفادات اور ایران کے ساتھ سرحدی سلامتی کو ایک ہی فریم میں رکھ سکے، سی پیک، گوادر، چاہ بہار، وسطی ایشیا کی منڈیاں اور توانائی راہداریوں کا مستقبل اسی توازن پر منحصر ہے، اگر پاکستان امریکی غنڈہ گردی کے دباؤ میں آ کر ایران کے خلاف کسی بھی سطح پر استعمال ہوا تو اس کے نتائج صرف سرحدی عدم استحکام تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ فرقہ وارانہ کشیدگی، توانائی بحران اور خطے میں تنہائی کی صورت میں نکلیں گے، اس کے برعکس اگر پاکستان دانشمندانہ خاموشی، بیک چینل ڈپلومیسی اور کثیرالجہتی فورمز پر امن کی وکالت کرتا ہے تو وہ ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر ابھر سکتا ہے، عالمی تھنک ٹینکس کو یہ سمجھنا ہوگا کہ امریکہ کی یک قطبی بالادستی اب زوال پذیر ہے، چین کا معاشی پھیلاؤ، روس کی عسکری مزاحمت، ایران کی اسٹریٹیجک ضد اور گلوبل ساؤتھ کی بیداری ایک نئے عالمی توازن کی نشاندہی کر رہی ہے، پاکستان اگر داخلی طور پر مستحکم ہو کر خارجہ پالیسی کو شخصیات کے بجائے ریاستی مفادات کے تابع کر لے تو وہ اس بدلتے عالمی منظرنامے میں محض تماشائی نہیں بلکہ ایک خاموش مگر مؤثر بیلنسنگ پاور بن سکتا ہے، ورنہ تاریخ ایک بار پھر یہی لکھے گی کہ جغرافیہ نے موقع دیا مگر قیادت نے بصیرت سے کام نہ لیا، اور یہی نکتہ وہ ہے جو کسی بھی سنجیدہ بین الاقوامی تھنک ٹینک کو محض تجزیہ نہیں بلکہ ازسرِنو سوچنے پر مجبور کر سکتا ہے۔


