
طاقت کے بل پر سیاسی اختلاف کو کچلنے کی ناکام کوشش ۔۔۔۔!!
پاکستان کی حالیہ سیاسی فضا اس وقت جس شدید اضطراب، بے یقینی اور ریاستی بوکھلاہٹ کا شکار نظر آتی ہے، اس کی واضح جھلک پی ٹی آئی عہدیداران کی یکے بعد دیگرے نااہلیوں، عمران خان کی ممکنہ کال کے گرد پیدا کیے گئے خوف، اور کارکنان کے گھروں پر چادر اور چاردیواری کے تقدس کو پامال کرنے جیسے اقدامات میں صاف دیکھی جا سکتی ہے، کیونکہ یہ تمام عوامل مل کر اس تاثر کو مضبوط کرتے ہیں کہ حکومت سیاسی مقابلے میں عوامی حمایت، اخلاقی جواز اور آئینی استحکام کھو چکی ہے اور اب طاقت کے بل پر سیاسی اختلاف کو کچلنے کی ناکام کوشش کر رہی ہے، پی ٹی آئی عہدیداران کی نااہلیاں کسی منصفانہ احتساب کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک منظم سیاسی انجینئرنگ کا حصہ دکھائی دیتی ہیں جس کا مقصد انتخابی میدان کو یکطرفہ بنانا اور ایک مقبول سیاسی قوت کو ادارہ جاتی ہتھکنڈوں سے کمزور کرنا ہے، یہ نااہلیاں اس وقت سامنے آتی ہیں جب ریاستی بیانیہ جمہوریت، آئین اور قانون کی بالادستی کے دعوے کرتا ہے مگر عملی طور پر انہی اصولوں کو پامال کرتا ہوا نظر آتا ہے، کیونکہ اگر واقعی قانون سب کے لیے برابر ہوتا تو فیصلوں میں شفافیت، عدالتی عمل کی غیر جانبداری اور اپیل کے حق کا احترام نظر آتا، مگر یہاں صورتحال یہ ہے کہ فیصلے پہلے ہو چکے ہیں اور عدالتیں محض مہر ثبت کرنے کا ذریعہ بنتی جا رہی ہیں، عمران خان کی کسی ممکنہ کال کا خدشہ دراصل اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ وہ اب بھی عوام کے ایک بڑے طبقے کے دلوں میں زندہ ہیں اور حکومت جانتی ہے کہ ایک آواز، ایک پیغام، یا ایک علامتی اشارہ بھی عوامی ردعمل کو جنم دے سکتا ہے، یہی وجہ ہے کہ عمران خان کو جیل میں رکھنے کے باوجود ان کے نام، تصویر، بیانیے اور سیاسی وجود سے خوف محسوس کیا جا رہا ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت کے پاس کارکردگی، عوامی اعتماد اور سیاسی وزن کی شدید کمی ہے، اگر حکومت مضبوط ہوتی، عوامی مینڈیٹ رکھتی اور اپنی پالیسیوں پر یقین رکھتی تو کسی ایک شخص کی کال یا بیان سے اسے کوئی خطرہ محسوس نہ ہوتا، مگر یہاں صورتحال اس کے برعکس ہے جہاں ہر ممکنہ احتجاج، ہر سوشل میڈیا پوسٹ اور ہر سیاسی سرگرمی کو ریاستی سلامتی کے لیے خطرہ بنا کر پیش کیا جا رہا ہے، جس سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ اصل مسئلہ ریاست کی سلامتی نہیں بلکہ اقتدار کی سلامتی ہے، حکومت کی بوکھلاہٹ کا سب سے شرمناک اظہار کارکنان کے گھروں پر چھاپوں، خواتین اور بچوں کو ہراساں کرنے، رات کی تاریکی میں دروازے توڑنے اور چادر و چاردیواری کے تقدس کو پامال کرنے کی صورت میں سامنے آیا ہے، جو نہ صرف آئین پاکستان کی صریح خلاف ورزی ہے بلکہ ہماری سماجی، اخلاقی اور مذہبی اقدار پر بھی ایک کاری ضرب ہے، کیونکہ ایک مہذب معاشرے میں اختلاف رائے کو جرم نہیں سمجھا جاتا اور سیاسی کارکن کو دہشت گرد بنا کر پیش نہیں کیا جاتا، مگر یہاں صورتحال یہ ہے کہ سیاسی وابستگی کو جرم، رائے کو بغاوت اور احتجاج کو غداری کے مترادف بنا دیا گیا ہے، یہ طرزِ عمل دراصل حکومت کی کمزوری اور خوف کی علامت ہے کیونکہ طاقتور حکومتیں عوام سے نہیں ڈرتیں بلکہ انہیں قائل کرتی ہیں، ان سے بات کرتی ہیں اور اختلاف کو جمہوری دائرے میں حل کرتی ہیں، مگر موجودہ حکمران طبقہ مکالمے کے بجائے لاٹھی، گرفتاری، نااہلی اور خوف کے ہتھیار استعمال کر رہا ہے، جس کے نتائج نہ صرف فوری سیاسی بحران کی صورت میں نکل رہے ہیں بلکہ طویل المدت طور پر ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کی خلیج کو مزید گہرا کر رہے ہیں، پی ٹی آئی کارکنان کے گھروں پر دھاوے دراصل اس بات کا ثبوت ہیں کہ حکومت سیاسی میدان میں ہار چکی ہے اور اب وہ گھروں کے اندر جا کر سیاسی جنگ لڑنا چاہتی ہے، مگر تاریخ گواہ ہے کہ ایسی کوششیں ہمیشہ الٹا نتیجہ دیتی ہیں، کیونکہ جبر وقتی خاموشی تو پیدا کر سکتا ہے مگر عوام کے دلوں سے ناراضی، غصہ اور احساسِ محرومی کو ختم نہیں کر سکتا، عمران خان کی سیاست کا بنیادی نکتہ بھی یہی رہا ہے کہ وہ خود کو اس طبقے کی آواز بنا کر پیش کرتے ہیں جو خود کو ریاستی نظام میں بے بس، نظرانداز اور استحصال کا شکار سمجھتا ہے، اور جب حکومت اسی طبقے پر جبر بڑھاتی ہے تو وہ نادانستہ طور پر عمران خان کے بیانیے کو تقویت دیتی ہے، یوں حکومت کی ہر گرفتاری، ہر نااہلی اور ہر چھاپہ دراصل اس سیاسی بیانیے کے حق میں جاتا ہے جسے وہ ختم کرنا چاہتی ہے، اس تمام صورتحال میں سب سے زیادہ تشویشناک پہلو یہ ہے کہ ریاستی اداروں کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، جس سے نہ صرف اداروں کی ساکھ متاثر ہو رہی ہے بلکہ ان کی غیر جانبداری پر بھی سنگین سوالات اٹھ رہے ہیں، ایک جمہوری ریاست میں ادارے سیاسی حکومتوں سے بالاتر ہو کر آئین کے تابع کام کرتے ہیں، مگر یہاں اداروں کو سیاسی تنازعات میں گھسیٹ کر انہیں متنازع بنایا جا رہا ہے، جو مستقبل میں ریاستی استحکام کے لیے نہایت خطرناک ثابت ہو سکتا ہے، اگر آج ایک جماعت کو اس طرح دیوار سے لگایا جا رہا ہے تو کل کوئی اور بھی اسی انجام سے دوچار ہو سکتا ہے، کیونکہ جب اصول ٹوٹتے ہیں تو وہ کسی ایک کے لیے نہیں ٹوٹتے بلکہ سب کے لیے ٹوٹ جاتے ہیں، حکومت شاید یہ سمجھ رہی ہے کہ نااہلیوں، گرفتاریوں اور خوف کے ذریعے وہ سیاسی میدان صاف کر لے گی، مگر وہ یہ بھول رہی ہے کہ سیاست محض کاغذی فیصلوں اور انتظامی احکامات سے نہیں چلتی بلکہ عوامی جذبات، معاشی حالات اور سماجی حقیقتوں سے جڑی ہوتی ہے، مہنگائی، بے روزگاری، معاشی زبوں حالی اور حکومتی نااہلی نے پہلے ہی عوام کو مایوس کر رکھا ہے، اور ایسے میں سیاسی جبر اس مایوسی کو غصے میں بدل رہا ہے، جو کسی بھی وقت ایک بڑے عوامی ردعمل کی صورت اختیار کر سکتا ہے، عمران خان کی کسی ممکنہ کال کا خدشہ دراصل اسی غصے اور اضطراب کا اعتراف ہے جو معاشرے میں موجود ہے، اور حکومت اسے دبانے کے بجائے اگر سیاسی بصیرت کا مظاہرہ کرتی، مکالمے کا راستہ اختیار کرتی اور آئین و قانون کے دائرے میں رہ کر سیاسی مقابلہ کرتی تو شاید صورتحال مختلف ہوتی، مگر بدقسمتی سے موجودہ حکمت عملی جمہوریت کو مضبوط کرنے کے بجائے کمزور، ریاست کو مستحکم کرنے کے بجائے متزلزل اور معاشرے کو جوڑنے کے بجائے تقسیم کر رہی ہے، جس کا خمیازہ نہ صرف آج کی سیاست بلکہ آنے والی نسلوں کو بھی بھگتنا پڑ سکتا ہے، کیونکہ جو ریاست اپنے شہریوں کے گھروں کی حرمت، ان کے ووٹ کی طاقت اور ان کی آواز کے حق کا احترام نہیں کرتی وہ بالآخر اخلاقی طور پر بھی دیوالیہ ہو جاتی ہے، اور یہی وہ مقام ہے جہاں آج کی حکومت کھڑی نظر آتی ہے، بوکھلاہٹ، خوف اور جبر کے سائے میں لپٹی ہوئی، جو شاید وقتی طور پر مخالف آوازوں کو دبا لے مگر تاریخ، عوام اور وقت کے سامنے اپنے اعمال کا جواب دینے سے بچ نہیں سکتی۔


