پچاس سالوں کے بعد دو حریف ایک میز پر
تحریر۔۔ سید سردار محمد خوندئی بیوروچیف بلوچستان
فیس بک ایکس اکاؤنٹ سمیت فرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں زوردار دھماکے کی طرح خبر بریک ہوا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان پاکستان کے ثالثی میں 21 گھنٹے جاری مذاکرات بغیر کسی اعلامیہ یا نتیجے کے ختم کرنے کا اعلان کیا گیا یہ سفارتی کامیابی پاکستان کو نصیب ہوئی جس نے ہزاروں افراد لقمہ اجل بننے اور لاکھوں مکانات کھنڈرات میں تبدیل ہونے کے بعد ایک سپر پاور اور ایران کو ایک میز پر بٹھا کر آمنے سامنے کیا یہ تو پہلا راؤنڈ تھا ایسے پچاس سالوں کی بد نیتی اور دشمنی ایک نشست سے کبھی ختم نہیں ہوتی اس کے لئے پورا وقت درکار ہوتا ہے پاکستان نے پوری دنیا کو لرزہ خیز تسری عالمی جنگ سے بچانے کی اپنے استعداد سے ہزار گنا زیادہ کوشش کی اور انکے درمیان سیز فائر کروایا اب دنیا کے عالمی طاقت ور ممالک کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس مذاکرات کی تسلسل کو برقرار رکھنے کے لئے کردار ادا کریں یہ معمولی مسئلہ یا جنگ نہیں اس سے پوری دنیا متاثر ہوگی میں مانتا ہوں کہ یہ مذاکرات کامیاب نہ ہوسکے مگر سفارتی زبان میں اس کو ناکام نہیں بلکہ امید پیدا کرنے کی نوید سمجھتی ہے
یہ انہونی نہیں ہے. مذاکرات یونہی ہوا کرتے ہیں. سلسلے جڑتے ہیں اور ٹوٹتے ہیں. پھر غیر جانبدار ممالک فریقین کو میز پہ لانے کی تگ و دو شروع کرتے ہیں. اور پھر نتائج آتے ہیں میں پچھلے کالم میں لکھ چکا ہوں کہ جوہری پروگرام اور آبنائے آرمز ہی مذاکرات کو کامیابی سے دور کرسکتی ہے اور وہی ہوا کہ جوہری پروگرام امریکہ کی ریڈ لائن اور مذاکرات کا اول اور آخری شرط ہوگا کہ ایران ہمیں باور اور یقینی معاہدے کے تحت ہمیں لکھ کر دیں کہ ہم ایٹمی ہتھیار بنانے کی کوشش تک نہیں کریں گے دوسری جانب ایران کو بھی اپنے سرزمین کی دفاع کرنے کا فکر ہے اگرچہ کہ ایران کئ بار ذکر کر چکے ہیں کہ ہم ایٹمی ہتھیار نہیں بنائیں گے مگر دنیا کی موجودہ اصول اور ہے اب صرف طاقت ور کی بات مانی جاتی ہے ۔ عین ممکن ہے کہ یہ مذاکرات پاکستان کے علاوہ کسی دوسرے ملک میں منعقد ہوجائے اور یہ بھی ممکن ہے کہ ایک بار پھر خلیج فارس آگ کے شعلوں میں آجائے اللہ نہ کرے یہ جنگ ہمارے مستقبل کو ایک طویل تاریکی کی طرف دھکیل دیں
بہرحال ایران امریکا نتیجے تک پہنچنے میں ناکام رہے ہوں، مگر پاکستان اپنے مقصد میں ضرور کامیاب ہواجو دونوں ممالک کے وفود نے سرعام تسلیم بھی کیا اسلام آباد نے اسے بڑی آسانی اور اور شاندار سفارت کاری کے ذریعے وطنِ عزیز قسمت میں کامیابی اور سرخروئی لکھوا دی ۔
بارہ اپریل صبح ساڑھے چھ بجے
وینس نے کہا جو بھی کمی رہی، وہ پاکستانیوں کی وجہ سے نہیں۔ انھوں نے شاندار کام کیا اور واقعی ہماری اور ایرانیوں کی فاصلے پاٹنے کی کوشش کی۔ پھر کہا ہم اکیس گھنٹے سے یہاں ہیں اور ایرانیوں کے ساتھ کئی ٹھوس بات چیت ہوئی۔ یہ اچھی خبر ہے۔ بری خبر یہ ہے کہ معاہدہ نہیں ہوا اور یہ ایران کے لیے امریکہ سے کہیں زیادہ بری خبر ہے۔
پھر وینس نے کہا کہ ہم لچکدار اور صدر کی ہدایت کے مطابق چلے
وینس نے تمام پریس کانفرنس سفارتی زبان میں کی جس میں لچک۔ پاکستان کی میزبانی تحمل کی باتیں ظاہر کرتی ہے کہ سب معاملات ایران کی سخت رویہ سے خراب ہوئی حالانکہ ایران کے وزیر خارجہ کہہ چکا ہے کہ کافی حد تک معاملات حل ہوئے اور ایران وفد کہتے ہیں کہ مذاکرات 14 گھنٹے تک جاری رہی مگر امریکہ 21 گھنٹے کی ڈھول بجا رہے ہیں یہ ہے کہ اگلے وقت نیک شگون بھی اور خدانخواستہ تباہ کن بھی ہوسکتا ہے ۔
جنگ بندی 22 اپریل کو ختم ہوتی ہے۔ دس دن باقی ہیں ۔
معاہدہ نہیں ہوا مگر دروازہ بھی بند نہیں ہوا۔ وینس نے ابھی تک کہا ہے ختم نہیں کہا۔ ایران نے "وقفہ” کہا ہے "ناکامی” نہیں کہا۔ اور اس "ابھی تک” اور "وقفے” کے درمیان جو جگہ ہے وہیں پاکستان کھڑا ہے۔
اکیس گھنٹے ضائع نہیں ہوئے۔ اکیس گھنٹوں میں 47 سال کی خاموشی ٹوٹی ہے۔ اکیس گھنٹوں میں سرخ لکیریں واضح ہوئی ہیں۔ اکیس گھنٹوں میں دونوں فریقوں نے ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھا ہے۔ اور جب آنکھوں میں دیکھنے کا مرحلہ آ جائے تو بم گرانا مشکل ہو جاتا ہے۔
22 اپریل قریب ہے۔ دس دن باقی ہیں۔ ہمیں اب دعا ہی کہہ سکتے ہیں کہ یہ جنگ مزید ختم ہوسکے مزید اگلے کالم میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔