مسلم حکمران ہوش کے ناخن لیں، اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کریں: ڈاکٹر ابو الخیر محمد زبیر
پتوکی/قصور (شبیر احمد۔شاہین) پاک و ہند کے عظیم روحانی بزرگان حضرت الشاہ خواجہ محمد رکن الدین الوری رحمۃ اللہ علیہ اور حضرت الشاہ مفتی محمد محمود الوری رحمۃ اللہ علیہ کے سالانہ عرس مبارک کی پروقار تقریبات جمعیت علماء پاکستان اور ملی یکجہتی کونسل کے صدر ڈاکٹر صاحبزادہ ابو الخیر محمد زبیر کی زیر صدارت منعقد ہوئیں۔
عرس کی پہلی نشست سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر ابو الخیر محمد زبیر نے کہا کہ جو لوگ ایمان لاتے اور نیک اعمال کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کی محبت لوگوں کے دلوں میں ڈال دیتا ہے۔ مسلم حکمرانوں کو چاہیے کہ ہوش کے ناخن لیں، اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کریں اور غزہ کے مسلمانوں کے ساتھ صرف زبانی ہمدردی کے بجائے عملی اقدامات کریں۔ انہوں نے کہا کہ ٹرمپ کا امن بورڈ دراصل بدامنی کا معاہدہ ہے، اور جو بدامنی کے ذمہ دار ہیں، انہی کے سپرد غزہ کی سیکیورٹی کرنا سب سے بڑا مذاق ہے۔
قصور میں حضرت شاہ مفتی محمد محمود الوریؒ کے عرس کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صاحبزادہ ابو الخیر محمد زبیر نے غزہ جنگ بندی اور ٹرمپ منصوبے پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی مشترکہ پریس کانفرنس محض دکھاوا اور عالمی رائے عامہ کو گمراہ کرنے کی کوشش ہے۔ انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف کے ٹرمپ منصوبے کے خیرمقدم پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ دراصل فلسطینی عوام کے حقوق کی قربانی اور اسرائیلی غاصبانہ قبضے کو تحفظ دینے کی کوشش ہے، جسے خوش آمدید کہنا پاکستان کے تاریخی اور اصولی مؤقف سے انحراف اور مظلوم فلسطینیوں کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر امریکہ اور اسرائیل واقعی مخلص ہیں تو فوری جنگ بندی کے ساتھ محصور فلسطینیوں تک امداد کی رسائی، قیدیوں کی رہائی اور غزہ کی تباہ حال بستیوں کی بحالی کے عملی اقدامات کریں۔ فلسطین کا مسئلہ محض سفارتی یا تکنیکی معاہدہ نہیں بلکہ ایک قوم کی آزادی اور بنیادی حقوق کا مسئلہ ہے، اور اس کا مستقل حل صرف آزاد فلسطینی ریاست ہے جس کا دارالحکومت بیت المقدس ہو۔
ڈاکٹر ابو الخیر محمد زبیر نے کہا کہ بزرگانِ دین نے محبت و امن کے ذریعے دین کی شمع کو روشن کیا۔ حکمران اللہ اور رسولؐ کے احکامات پر عمل کریں تو رعایا خود بخود ان کی مطیع ہو جائے گی، ڈنڈے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ افسوس کہ آج اسلامی احکامات کے بجائے اسلام مخالف قوانین نافذ کیے جا رہے ہیں۔ یہ ملک اسلام کے نام پر حاصل ہوا اور یہاں صرف اسلامی نظام ہی نافذ ہوگا۔
انہوں نے مسلم حکمرانوں، خصوصاً او آئی سی اور اسلامی ریاستوں پر زور دیا کہ وہ محض بیانات تک محدود نہ رہیں بلکہ مشترکہ حکمت عملی، سفارتی دباؤ اور عملی امداد کے ذریعے فلسطینی عوام کا ساتھ دیں۔ ساتھ ہی حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا کہ بین الاقوامی سطح پر واضح اور دوٹوک مؤقف اختیار کیا جائے اور فلسطینی حقوق کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
عرس کی تقریبات میں صاحبزادہ عزیر محمود الازہری، صاحبزادہ فائز محمود الازہری، علامہ عبدالغفور الوری، حافظ نصیر احمد نورانی، پروفیسر قمر زیدی، سابق وفاقی وزیر سردار آصف نکئی، شیخ وسیم احمد، چوہدری امجد میو، مفتی تصدق حسین، صاحبزادہ اویس سردار عالم کھریپڑ شریف، رشید احمد رضوی، پروفیسر اکرم اعوان سمیت پیرانِ کرام، مشائخ عظام اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔