دوسری عالمی کانفرنس برائے زرعی انجینئرنگ اور ٹیکنالوجیز کا آغاز
ٹنڈو جام (محمدشریف) سندھ زرعی یونیورسٹی میں فیکلٹی آف ایگریکلچرل انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کی میزبانی میں اور سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن و اسریٰ یونیورسٹی حیدرآباد کے تعاون سے دوسری عالمی کانفرنس برائے زرعی انجینئرنگ اور ٹیکنالوجیز (ICAET-2026) کا آغاز ہو گیا ہے۔ اس دو روزہ کانفرنس ملکی و غیر ملکی ماہرین، اکیڈمیا،محققین، صنعت کے نمائندگان اور طلبہ نے شرکت کی، افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سندھ زرعی یونیورسٹی کے پہلے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عبدالقادر انصاری نے کہا کہ دنیا تیزی سے ترقی کر رہی ہے اور مستقبل میں آج کے استاد کی جگہ مصنوعی ذہانت (AI) لے گی۔ انہوں نے طلبہ کو ہدایت کی کہ وہ جدید ٹیکنالوجی میں توجہ دیں، انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی میں 40 سال سے موجود ہارویسٹر اور کپاس پکنگ مشینیں موجود ہیں، لیکن تربیت یافتہ آپریٹرز کی کمی ہے، اس لیے طلبہ کو جدید مشینری کے استعمال پر خصوصی کورسز فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔اور انہوں نےکہا کہ ملک میں زرعی زمینوں کی کمی، سڑکوں کے اطراف زمینوں کا کنکریٹ اور عمارتوں میں تبدیل ہونا تشویشناک ہے۔ انہوں کہا کہ مستقبل میں نوکریاں نہیں ہونگی، اور طلبا کو اپنی مہارتوں کے مطابق خود روزگار کے ذرائع پیدا کرنے ہونگے، وائس چانسلر ڈاکٹر الطاف علی سیال نے کہا کہ پاکستان کی زراعت کو موسمی تبدیلی، پانی کی کمی، مٹی کی زرخیزی میں کمی، توانائی کے مسائل اور بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے خوراک کے تحفظ کے چیلنجز کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ زرعی انجینئرنگ اب صرف مشینری تک محدود نہیں، بلکہ اس میں اسمارٹ آبپاشی نظام، پریکشن ایگریکلچر، AI اور IoT کے ذریعے فصلوں کی نگرانی، قابل تجدید توانائی اور پوسٹ ہارویسٹ ٹیکنالوجیز شامل ہیں۔ڈاکٹر سیال نے کہا کہ پانی بچانے والی آبپاشی ٹیکنالوجیز، چھوٹے کاشتکاروں کے لیے سستی مشینری، موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ انجینئرنگ حل، اور مقامی حالات کے مطابق آٹومیشن اور روبوٹکس پر توجہ دینا ضروری ہے۔ انہوں نے عالمی معیار کی ٹیکنالوجیز جیسے ڈرون، سمارٹ شیڈیولنگ اور بلاک چین پر مبنی سپلائی چینز کے استعمال کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ڈائریکٹر جنرل ایگریکلچر ریسرچ سندھ ڈاکٹر مظہر الدین کیریو نے خبردار کیا کہ شدید گرمی، ہیٹ ویوز اور دیگر موسمی اثرات کپاس، چاول، مکئی، کیلے اور سبزیوں کی پیداوار کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں کی تربیت، محققین اور کاشتکاروں کے درمیان رابطے کو بہتر بنانا اور جدید آبپاشی کے طریقے اپنانا ناگزیر ہے۔پاکستان سوسائٹی آف ایگریکلچرل انجینئرز کے صدر انجینئر منصور رضوی نے چھوٹے کاشتکاروں کے لیے سستی اور ماحول دوست مشینری کے لیے حکومت کی مدد طلب کی۔ بین الاقوامی ماہرین نے بھی اہم نکات پر روشنی ڈالی۔ کینیڈا سے آئے GIS ماہر ڈاکٹر زاہد ملک نے کہا کہ اگلے 25 سالوں میں عالمی خوراک کی طلب بڑھ جائے گی، ملیشیا سے آئے ڈاکٹر اسد اللہ شاہ نے کہا کہ پاکستان موسمی تبدیلی، پانی کی کمی، خشک سالی اور زمین کی بگاڑ جیسے مسائل کا سامنا کر رہا ہے۔ بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر 2050 تک کاشتکاروں کو 50 فیصد زیادہ خوراک پیدا کرنے کے لیے جدید تکنیکیں اپنانا ہوں گی۔ ڈین آف فیکلٹی آف ایگریکلچرل انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی ڈاکٹر منیر احمد منگریو نے موسمی تبدیلی، وسائل کی کمی اور بڑھتی ہوئی خوراک کی طلب کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے جدید انجینئرنگ حل اپنانے کی ضرورت پر زور دیا، اہم شرکاء میں اسریٰ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر احمد ولی اللہ قاضی، یونیورسٹی آف میرپورخاص کے وائس چانسلر ڈاکٹر رفیق احمد میمن، نیوکلیئر انسٹی ٹیوٹ آف ایگریکلچر کے ڈائریکٹر ڈاکٹر محبوب علی سیال، مہران یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر کامران انصاری، FAO کے صوبائی کوآرڈینیٹر ڈاکٹر اشفاق احمد ناہیوں کے علاوہ ملک بھر کے مختلف یونیورسٹیوں کے ڈینز، پروفیسرز، اساتذہ اور طلبہ شامل تھے۔ اس موقع پر ڈاکٹر عرفان احمد شیخ اور ڈاکٹر انجینئر ظہیر احمد خان نے بتایا کہ دو روزہ کانفرنس، جس میں FAO کے نمائندگان، قومی اور بین الاقوامی ماہرین، صنعت کے ماہرین اور طلبہ شریک تھے، کو 265 تحقیقی مقالات موصول ہوئے، جن میں سے 131 کو پیش کرنے کے لیے منتخب کیا گیا۔ اس کانفرنس کا مقصد موسمیاتی لحاظ سے سمارٹ زراعت، پانی کے انتظام اور جدید ٹیکنالوجیز پر قابل عمل پالیسی تجاویز پیش کرنا ہے۔