
عوامی نبض شناس کا بہترین انتخاب "فیضی جٹ "
رائےونڈ کی فضاؤں میں اگر کبھی خدمتِ خلق کی خوشبو محسوس ہو، اگر کسی زخمی دل کو سہارا دینے والی سوچ کا ذکر آئے، اگر شہر کے باسیوں کو اندھیروں میں امید کی کرن دکھائی دے، تو ان سب حوالوں سے ایک نام بے ساختہ ہر زبان پر آتا ہے — فیضی جٹ، ایک ایسا بے باک، جفاکش، دیانتدار، نڈر اور عوامی خدمت کے جذبے سے سرشار کارکن جس نے خود کو ہمیشہ ذات، برادری، سیاسی مفادات یا وقتی شہرت سے بالاتر ہو کر صرف اور صرف انسانیت کی خدمت کے لیے وقف کر رکھا ہے، وہ ایسا کردار ہے جو دن کے اُجالے میں پسے ہوئے طبقات کے مسائل سنتا ہے اور رات کے سناٹے میں ان کے حل کے لیے سوچتا ہے، رائےونڈ کے باسی برسوں سے اس حقیقت کے گواہ ہیں کہ جب بھی کسی مظلوم کو انصاف نہ ملا، کسی بیوہ کا چولہا ٹھنڈا پڑ گیا، کسی طالب علم کی فیس رک گئی، کسی یتیم کا بستر خالی ہوا، یا کسی مریض کو دوا کی حاجت ہوئی، تو سب سے پہلے جو چہرہ نظر آیا، جو دروازہ کھلا، جو آواز بلند ہوئی، وہ صرف اور صرف فیضی جٹ کی تھی، اور یہ وہی پہچان ہے جس نے قیادت کے دل میں جگہ بنائی ، سدا بہار ایم این اے ملک افضل کھوکھر جیسے مدبر، بردبار اور عوامی نبض شناس سیاستدان نے جب رائےونڈ کے زمینی حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے حلقے کی سیاسی و سماجی بہتری کے لیے اہم فیصلے کیے تو اُن کی نظر انتخاب جس شخصیت پر جا ٹکی وہ اور کوئی نہیں بلکہ یہی فیضی جٹ تھا، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ رائےونڈ جیسے حساس، مذہبی، علمی اور سیاسی پس منظر والے علاقے میں عوامی رابطہ کاری، خدمت، شفافیت اور تنظیمی قابلیت کے جتنے تقاضے ہیں، ان سب پر اگر کوئی شخصیت پوری اترتی ہے تو وہ فیضی جٹ ہی ہے، اسی طرح حلقہ پی پی 165 کے امیدوار چوہدری شہزاد نذیر سندھو ایڈووکیٹ جنہیں قانون، اصول اور عوامی حقوق کا پاسدار مانا جاتا ہے، اُنہوں نے بھی جب اپنے ووٹ بینک، عوامی طاقت اور نچلی سطح کی تنظیم سازی کے لیے نظریاتی اور عملی بنیادوں پر فیصلے کیے تو اُن کی مشاورتی ٹیم کی متفقہ رائے تھی کہ فیضی جٹ جیسے کارکن کو کلیدی کردار دیا جائے، کیونکہ وہ صرف کارکن نہیں بلکہ وہ ’عوامی تحریک‘ ہے جو گلیوں، بازاروں، یونین کونسلوں، اور محلہ کمیٹیوں کے دل میں دھڑک رہا ہے، اور یہی وہ لمحہ تھا جب ایک پُرخلوص، نڈر، نظریاتی، باوفا اور کارکن دوست انسان کو ایک بار پھر اُس کے اصل مقام پر پہنچایا گیا، اُس کی شخصیت میں عجز بھی ہے اور عاجزی بھی، استقامت بھی ہے اور ہمت بھی، فہم و فراست بھی ہے اور عملی بصیرت بھی، یہی وہ خوبیاں ہیں جو کسی بھی سیاسی جماعت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں، اور جب ایسی صلاحیتوں کا مالک انسان کسی بڑے پلیٹ فارم پر متحرک کردار ادا کرے تو پھر صرف تنظیم نہیں، پورا معاشرہ ترقی کی راہ پر گامزن ہوتا ہے، فیضی جٹ نے کبھی بڑے دعوے نہیں کیے، وہ دکھاوے سے دور، سادگی کا پیکر، عمل کا عاشق اور خاموش خدمت کا مینارہ نور رہا ہے، رائےونڈ کے بچے، بزرگ، خواتین، کسان، مزدور، امام مسجد، اساتذہ، یہاں تک کہ سیاسی مخالفین بھی اُس کے کردار، اصول پسندی اور عوام دوستی کو تسلیم کرتے ہیں، وہ ان معدودے چند افراد میں سے ہے جن کی موجودگی خود ایک نعمت ہے، جن کی آواز سن کر لوگ اپنی پریشانیاں بھول جاتے ہیں، جن کے فون کال پر بیمار کے لیے ایمبولینس، غریب کے لیے راشن، طالبعلم کے لیے فیس اور بے گھر کے لیے چھت کا بندوبست ہو جاتا ہے، اس کی کاوشیں صرف وقتی ریلیف تک محدود نہیں بلکہ وہ طویل مدتی بہتری، ادارہ جاتی اصلاحات اور عوامی شعور اجاگر کرنے پر یقین رکھتا ہے، وہ نوجوانوں کو صرف جوش نہیں بلکہ ہوش سے بھرپور راستے دکھاتا ہے، بزرگوں کو احترام دیتا ہے، خواتین کو تحفظ دیتا ہے اور بچوں کو تعلیم کی طرف مائل کرتا ہے، اگر آپ رائےونڈ کے بازاروں میں گھومیں، یونین کونسلوں کا دورہ کریں، عام شہریوں سے بات کریں، حتیٰ کہ سیاسی مخالفین سے بھی تبادلہ خیال کریں تو آپ کو ایک ہی آواز سنائی دے گی: ’’فیضی جٹ ہماری امید ہے‘‘، اور جب کسی کارکن کو عوام کی سطح پر اتنی مقبولیت حاصل ہو تو اُسے بڑی سے بڑی ذمہ داری دینا نہ صرف مناسب بلکہ ضروری ہو جاتا ہے، یہی وہ سوچ تھی جس کے تحت ملک افضل کھوکھر اور چوہدری شہزاد نذیر سندھو ایڈووکیٹ نے انتہائی مدبرانہ فیصلہ کرتے ہوئے اُسے ایک ایسی ذمہ داری سونپی جو نہ صرف جماعت کی تنظیمی دھارے میں نئی جان ڈالے گی بلکہ عوام اور پارٹی کے درمیان ربط کو ناقابل تسخیر بنا دے گی، اب شہر رائےونڈ ایک نئے سیاسی سفر کی تیاری میں ہے، اور اس سفر میں فیضی جٹ کا کردار پُل کا ہے، روشنی کا ہے، رہنمائی کا ہے، اور عوامی امنگوں کا امین بن کر وہ ہر دن، ہر لمحہ، ہر گلی، ہر گھر اور ہر دل میں ایک نئی توانائی اور ایک نئے جذبے کے ساتھ اپنی موجودگی کو ثابت کرتا رہے گا، یہ کالم لکھتے ہوئے میں یہ دعویٰ پورے یقین سے کرتا ہوں کہ رائےونڈ کی آئندہ سیاسی تاریخ اگر کسی ایک کردار کے گرد گھومے گی، تو وہ کردار فیضی جٹ ہو گا — کیونکہ خدمت، خلوص اور قیادت جب ایک ہی شخص میں جمع ہو جائے تو پھر عوام اُسے صرف نمائندہ نہیں، محافظ مانتے ہیں، اور یہی فیضی جٹ کی اصل کامیابی ہے۔


