اسلام صرف ظاہری عبادات کا نام نہیں،حافظ محمد ابراہیم نقشبندی
لاہور (آئی این پی)الکہف ایجوکیشن فاﺅنڈیشن کے مرکزی چیئر مین اورمعروف روحانی و اصلاحی شخصیت حافظ محمد ابراہیم نقشبندی نے کہا کہ اسلام صرف ظاہری عبادات کا نام نہیں بلکہ دل کی صفائی، نیت کی درستگی اور باطنی طہارت بھی ایمان کا بنیادی تقاضا ہے انہوں نے کہا کہ اگر انسان کا ظاہر دین دار ہو لیکن دل ریاکاری، تکبر اور دنیا پرستی سے آلودہ ہو، تو ایسے شخص کی عبادات کھوکھلی اور بے اثر ہو جاتی ہیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے جامع مسجد دار الشفاءمیں اصلاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ، انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے نماز، روزہ، تلاوت، صدقہ جیسے ظاہری اعمال کے ساتھ ساتھ توبہ، اخلاص، تواضع، صبر، شکر اور حسنِ ظن جیسے باطنی اعمال کی بھی فکر کرنی چاہیے ان دونوں کا امتزاج ہی ایک کامل مو¿من کو جنم دیتا ہے انہوں نے کہا کہ دین اسلام ہمیں دونوں کی اصلاح کا درس دیتا ہے حضور نبی کریم ﷺ کی سیرت طیبہ اس کی بہترین مثال ہے، جہاں آپ ﷺ کا ظاہر بھی سب سے خوبصورت اور باطن بھی سب سے پاکیزہ تھا انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنی نیتوں کا محاسبہ کرنا ہوگا کیا ہم واقعی اللہ کی رضا کے لیے عمل کرتے ہیں یا دکھاوے، شہرت یا تعریف کی تمنا رکھتے ہیں؟ اگر نیت میں خرابی ہو تو عمل چاہے جتنا بڑا ہو، مقبول نہیں ہوتا حافظ محمد ابراہیم نقشبندی نے کہا کہ ظاہری دین داری کے ساتھ ساتھ باطنی تبدیلی اور دل کی اصلاح کی بھی اشد ضرورت ہے ،ہمیں چاہیے کہ ذکر و فکر، توبہ و استغفار اور صوفیاءکی صحبت سے استفادہ کریں تاکہ دل زندہ ہو اور نیکی میں لذت پیدا ہو، بیان کے آخر میں انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے ظاہر و باطن دونوں کو سنوارنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمارے اعمال کو خالص اپنے لیے مقبول بنائے۔