سندھ زرعی یونیورسٹی کی زیرمیزبانی تیسری دو روزہ عالمی کانفرنس، اختتام پذیر
ٹنڈوجام (محمدشریف) سندھ زرعی یونیورسٹی کی زیرمیزبانی تیسری دو روزہ عالمی کانفرنس، اختتام پذیر ہوگئی، ملکی و عالمی ماہرین کی جانب سے ڈیٹا کو ایک قومی اثاثہ تسلیم کرتے ہوئے اسے پالیسی سازی، منصوبہ بندی اور ترقیاتی فیصلوں میں بنانے کی سفارش، تفصیلات کے مطابق سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈوجام میں منعقدہ تیسری بین الاقوامی کانفرنس برائے ڈیٹا ڈرائیون، سوشل چینج 2026 اور پہلے انٹرنیشنل ریسرچ سمپوزیم 2026 ااختتام پذیر ہوگئی ہے، جس میں پاکستان، ملیشیا، چین، برطانیہ، سائوتھ کوریا سمیت دنیا کے مقبول تدریسی و تحقیقی اداروں کے ماہرین نے براہ راست و آن لائین اپنے 224 تحقیقی خلاصے جمع کروائے گئے، جن میں سے سخت جانچ پڑتال کے بعد 80 تحقیقی مقالے آن سائٹ اور آن لائن پیشکش کے لیے منظور کیے گئے جو ایم ڈی پی آئی پروسیڈنگز اور ایچ ای سی سے تسلیم شدہ جرائد میں شائع کیے جائیں گے، ان مقالوں کی روشنی میں ماہرین نے سفارشات پیش کی ہیں، جن میں تجاویز دی ہیں کہ ڈیٹا کو قومی اثاثہ تسلیم کرتے ہوئے اسے پالیسی سازی، منصوبہ بندی اور ترقیاتی فیصلوں کی بنیاد بنایا جائے۔ شرکاء نے اس امر پر اتفاق کیا کہ پیش گوئی تک محدود مصنوعی ذہانت کے بجائے ایسے قابلِ فہم، قابلِ اعتماد اور فیصلہ سازی پر مبنی مصنوعی ذہانت نظام تیار کیے جائیں جو عملی سطح پر مؤثر ثابت ہوں۔ سفارشات میں زراعت، لائیو اسٹاک، صحت، تعلیم، گورننس اور سماجی و معاشی ترقی جیسے اہم شعبوں میں ڈیٹا سائنس اور اے آئی کے مؤثر استعمال پر زور دیا گیا۔ ماہرین کے مطابق جیو اسپیشل ڈیٹا اور جی آئی ایس کو قومی سطح پر اپناتے ہوئے بیماریوں کی نگرانی، وسائل کی منصفانہ تقسیم، شہری و دیہی منصوبہ بندی اور ہنگامی حالات میں فیصلہ سازی کو بہتر بنایا جا سکتا ہے، جبکہ کالرا اور دیگر وبائی امراض کی ڈیجیٹل میپنگ کے ذریعے بروقت روک تھام ممکن ہوگی۔ کانفرنس میں زرعی شعبے کے لیے پریسیژن ایگریکلچر، سیٹلائٹ اور ڈرون میپنگ، مٹی و پانی کے ڈیٹا کے استعمال اور کسان دوست ڈیجیٹل ایپلی کیشنز کو فروغ دینے کی سفارش کی گئی۔ اس کے علاوہ اکیڈمیا، صنعت اور حکومت کے درمیان مضبوط اشتراک، اخلاقی اور ذمہ دار AI کے نفاذ، HEC معیار کے مطابق تحقیقی نظام کی مضبوطی، نوجوانوں کی ڈیجیٹل مہارتوں کی ترقی، سائنس و ٹیکنالوجی میں خواتین کی شمولیت، اسٹارٹ اپ ایکوسسٹمز اور انوویشن ہبز کے قیام، تحقیق کی کمرشلائزیشن، بین الشعبہ جاتی تحقیق، مضبوط سائبر سیکیورٹی اور شواہد پر مبنی پالیسی سازی کو بھی کانفرنس کی اہم سفارشات قرار دیا گیا۔اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوے وائیس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر الطاف علی سیال نے کہا کہ مستقبل کے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے کم لاگت اور قابلِ توسیع ڈیجیٹل حل تیار کرنے کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کی صلاحیت سازی، خواتین کے کردار کو مضبوط بنانے اور سائنس و ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کو فروغ دینا ناگزیر ہے، جبکہ ایگری ٹیک، ہیلتھ ٹیک، ایجو ٹیک اور آئی ٹی گورننس میں اسٹارٹ اپس، انوویشن ہبز اور لیونگ لیبز کے قیام سے روزگار کے مواقع، کمرشلائزیشن اور معاشی ترقی کو تقویت مل سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈیٹا پر مبنی تحقیق ایک مسلسل عمل ہے جو اخلاقی اور ذمہ دارانہ انداز میں استعمال ہونے کی صورت میں جامع ترقی، پائیدار خوشحالی اور سماجی بہبود کا مؤثر ذریعہ بن سکتی ہے۔قبل ازیں ڈین فیکلٹی آف سوشل سائنسز ڈاکٹر اعجاز علی کھوہارو، ڈئریکٹر انفارمیشن ٹیکنالوجی سینٹر ڈاکٹر میر سجاد ٹالپر، ڈاکٹر سوہنئ عباسی، ڈاکٹر محمد یعقوب کوندھر اور دیگر نے خطاب کیا، اس موقع پر ڈاکٹر اسداللہ شاہ،ڈاکٹر مختیار علی میمن، ڈاکٹر سہراب تہیم، ڈاکٹر پیار علی شر، عارف علی مگسی سمیت کی نوٹ اسپیکرس، منتظمین ، اور خدمات دینے والے انتظامی و تدریسی شعباجات کے سربراہان کو شیلڈز اور تعریفی سرٹیفکیٹس سے نوازا گیا۔