انٹرنیٹ بحران گوجرانوالہ کے نوجوانوں کا مستقبل داؤ پر
گوجرانوالہ (رانا عبدالغفار )پاکستان کا عالمی ڈیجیٹل دنیا میں چوتھے نمبر پر ہونا نوجوانوں کی محنت کا ثبوت ہے، مگر مقامی سطح پر انٹرنیٹ کی سست رفتاری اور ایف آئی اے (FIA) کے غیر شفاف نظام نے ان کی ترقی کی راہ میں دیوار کھڑی کر دی ہے۔ گوجرانوالہ کے شہریوں اور فری لانسرز نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے اس سنگین صورتحال پر فوری ایکشن کا مطالبہ کیا ہے۔پاکستان اس وقت دنیا بھر میں فری لانسنگ کے شعبے میں چوتھے بڑے ملک کے طور پر تسلیم کیا جا رہا ہے، لیکن بدقسمتی سے انٹرنیٹ کی مسلسل سست رفتاری ان نوجوانوں کے لیے "معاشی خودکشی” کے مترادف بن چکی ہے۔ عالمی کلائنٹس کا اعتماد ٹوٹ رہا ہے، جس کی وجہ سے قیمتی زرِ مبادلہ پاکستان کے بجائے دیگر ممالک کو منتقل ہو رہا ہے۔رپورٹ کے مطابق، کم پڑھے لکھے افراد کو ڈیجیٹل ڈکیتوں کے ذریعے لوٹنے کا سلسلہ عروج پر ہے۔ یہ گروہ معصوم لوگوں کی معلومات چوری کر کے ان کے بینک اکاؤنٹس خالی کر دیتے ہیں۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ جب شہری انصاف کے لیے ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کا رخ کرتے ہیں، تو وہاں انہیں ایک نئے بحران کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔متاثرین کی جانب سے ایف آئی اے کے تفتیشی عمل پر سنگین سوالات اٹھائے گئے ہیں۔تحقیقات کے بہانے شہریوں کے موبائل فون ضبط کر لیے جاتے ہیں، جس کی نہ کوئی رسید دی جاتی ہے اور نہ ہی ڈیٹا کے تحفظ کی کوئی ضمانت، جسے بعد ازاں بلیک میلنگ کے لیے استعمال کیے جانے کا خدشہ رہتا ہے۔ریکوری کے نام پر ملزمان سے لی جانے والی رقم کا کوئی ڈیجیٹل ریکارڈ یا سرکاری رسید موجود نہیں ہے۔ یہ طے کرنا ناممکن ہے کہ افسر نے کتنی رقم ریکور کی اور کتنی متاثرہ شخص کو ملی۔ حکومت کے پاس اس مبینہ کرپشن کو چیک کرنے کا کوئی میکنزم موجود نہیں ہے۔ایف آئی اے گوجرانوالہ میں ریکوری کے عمل کو فوری طور پر ڈیجیٹلائز کیا جائے تاکہ ہر لین دین کا ریکارڈ موجود ہو۔موبائل فون ضبطی کے عمل پر پابندی لگا کر جدید فرانزک طریقے اپنائے جائیں تاکہ شہریوں کی نجی زندگی محفوظ رہے۔پی ٹی اے (PTA) کو انٹرنیٹ کی رفتار بہتر بنانے کے احکامات دیے جائیں تاکہ پاکستان کا ڈیجیٹل دنیا میں چوتھا نمبر برقرار رہ سکے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ وزیر داخلہ محسن نقوی کو چاہیے کہ وہ اداروں کے اندر چھپی ان کالی بھیڑوں کا محاسبہ کریں جو ‘ریکوری’ کے نام پر اپنی جیبیں بھر رہے ہیں اور ڈیجیٹل پاکستان کے خواب کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔