ایف بی آر کے افسران کے اختیارات محدود کر دیئے گئے ہیں ‘ ڈاکٹر حامد عتیق
لاہور( آئی این پی)فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے ممبر آپریشن ڈاکٹر حامد عتیق نے کہا ہے کہ37A زیادہ مسئلہ نہیں صرف قانون کو سمجھنے کی ضرورت ہے ،ایف بی آر کے افسران کے اختیارات محدود کر دیئے گئے ہیں ،سیلز ٹیکس ریٹرن،کیو آر کوڈ،او ٹی پی اورپاسورڈ پالیسی جیسے مسائل 25جولائی تک حل ہو جائیں گے،آن لائن کاروبار کرنے والوںکو دسمبر تک رجسٹرڈ کر لیا جائے گا،ڈیٹا آچکا ہے پانچ ہزار سے زائد کمپنیاں رجسٹرڈ ہونے کے لیے تیار ہیں،2025کا گوشوارہ بہت ہی اہمیت کا حامل ہے، ٹیکس فراڈ کو روکنے کے لیے دوسرے ممالک سے جدید سسٹم خریدا جا سکتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے انٹرنیشنل لائرز ایسوسی ایشن پنجاب چیپٹر کے وفد سے گفتگو کر تے ہوئے کیا ۔ماہر معاشیات و ٹیکس ماہرین آئی ایل کے صدر عاشق علی رانا ،جنرل سیکرٹری اسحاق بریار کی قیادت میں فنانس سیکرٹری شیخ عدیل شاہد،نائب صدور نغمانہ شہزادی،سید عدیل حیدر،زاہد رسول گورائیہ،رانا عبدالوحید،میڈیا ایڈوائزر افضل ایوبی اوراسلم بھٹی پر مشتمل وفد نے ملاقات کی ۔لارج ٹیکس یونٹ لاہور میں ہونے والی ملاقات میں چیف کمشنر سجاد تسلیم اعظم اور دیگر بھی موجود تھے۔عاشق علی رانا اوراسحاق بریار نے ممبر آپریشن ایف بی آر ڈاکٹر حامد عتیق کو فنانس ایکٹ 2025کے بعد آنے والے مسائل کی نشاندہی کرتے ہوئے بتایا کہ سیلز ٹیکس ریٹرن اور 37A کے مسائل فوری حل طلب ہیں،کیو آر کوڈ کو ختم کیا جائے اور دوماہ بعد پاسورڈ تبدیلی کے قانون اور بائیو میٹرک کی شرط کو جولائی ٹو جولائی کیا جائے ،او ٹی پی کا قانون دنیا بھر میں موجود ہے،بینکوںکو کوئی اعتراض نہیں تو رکاوٹیں دور کی جائیں تاکہ ٹیکس بارز ممبران،وکلاءںآئی ٹی پیز،چارٹرڈ اکاﺅنٹنٹ فرمیں،چیمبرز اور تاجر تنظیمیں آزادانہ ماحو ل میں کام کر سکیں۔ جب تک ٹیکس دہندگان،رجسٹرڈ پرسنز اورٹیکس کنسلٹنٹ کو آزاد ماحول فراہم نہ کیا گیا تو ٹیکس بیس اور ٹیکس نیٹ بڑھنا خواب اور ٹیکس اہدف غیر محفوظ ہوں گے ۔ممبر آپریشن ایف بی آر ڈاکٹر حامد عتیق نے یقین دہانی کراتے ہوئے بتایا کچھ مسائل اور شرائط اور لینڈر کا دباﺅ ایسا ہوتا ہے جو شیئر نہیں کیا جا سکتا مگر اب حالات تیزی سے درستگی کی طرف آ رہے ہیں ،پراپر ٹی سیکٹر کو ریلیف دیا تاکہ چالیس سے زائد انڈسٹری کا پہیہ چلے ،تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دیا تاکہ مایوسی کو دور کیا جا سکے،تاجر تنظیموں کے مسائل حل کرنا اولین ترجیحات ہیں۔